مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: سال 2020 کے بعد سے، جنوری کا مہینہ اب محض موسمِ سرما کا آغاز نہیں رہا۔ کلینڈر، ہر سال اس مہینے میں ایک ایسے نکتے پر پہنچتی ہے جہاں ایرانیوں اور خطے کے عوام کا اجتماعی حافظہ لاشعوری طور پر پیچھے کی طرف لوٹ جاتا ہے؛ 3 جنوری کی اس صبح کی طرف اور اس خبر کی طرف جو مقامی اور غیر ملکی میڈیا پر تیزی سے نشر ہوئی تھی۔ ایک مختصر مگر سنگین خبر: بغداد ایئرپورٹ پر سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کی قدس فورس کے کمانڈر کا قتل۔
وقت رات کے تقریباً 1:20 بجے تھے جب بغداد ایئرپورٹ ایک ٹارگٹڈ حملے کا منظر بن گیا؛ ایک ایسا حملہ جس نے نہ صرف ایک فوجی کمانڈر، بلکہ ان کے قریبی ساتھیوں کے ایک گروپ کو بھی نشانہ بنایا۔ خبر کی اشاعت کے ابتدائی گھنٹوں میں میڈیا کی توجہ ایک ہی نام پر تھی؛ لیکن شہدا کی فہرست پر غور کرنے سے دوسرے نام بھی نظر آتے تھے؛ وہ ایرانی اور عراقی نام جو برسوں تک مختلف مشنوں میں، میدانوں اور سفروں میں، حاج قاسم سلیمانی کے پہلو میں موجود رہے۔
اس واقعے نے دو قوموں کے درمیان ایک مشترکہ سوگ رقم کیا۔ ایران اور عراق کے کمانڈرز اور فورسز جو طویل برسوں تک ایک ہی محاذ پر نظر آتے تھے، اس بار ایک ہی نکتے پر سفر کے اختتام کو پہنچے۔ یہ ہمراہی جو ان میں سے بعض کے لیے محض ایک تنظیمی ذمہ داری یا عارضی مشن نہیں تھی، بلکہ ایک شعوری انتخاب تھا جس نے ان کی زندگی کا رخ بدل دیا اور ایک مشترکہ تقدیر تک لے گیا۔ یہ رپورٹ ان ساتھیوں کے ایک حصے پر طائرانہ نظر ہے؛ وہ افراد جن میں سے بعض کتابوں اور تحریری روایتوں کا موضوع بنے اور بعض دیگر اب بھی کم پہچانے جاتے ہیں۔ اس رپورٹ کی توجہ اسی ہمراہی پر ہے؛ وہ ہمراہی جو آخر کار بغداد ایئرپورٹ پر اختتام کو پہنچی۔

حشد الشعبی عراق کے کمانڈر ابو مہدی المہندس:
ابومہدی المہندس کا اصل نام جمال جعفر محمد علی آل ابراہیم تھا، 1954 میں بصرہ میں پیدا ہوئے، ان کے والد عراقی اور والدہ ایرانی تھیں۔ انہوں نے اپنی تعلیم سول انجینئرنگ میں مکمل کی اور فوجی سروس کے بعد، بصرہ کے آئرن اینڈ اسٹیل کے عوامی ادارے میں بطور سول انجینئر اپنی پیشہ ورانہ سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ تاہم ان کی زندگی کا راستہ بتدریج تکنیکی کام سے سیاسی اور فوجی سرگرمیوں کی طرف بدل گیا اور بعد میں انہوں نے پولیٹیکل سائنس میں ماسٹرز کی ڈگری بھی حاصل کی۔
1970 کی دہائی کے اوائل میں المہندس نے عراق کی حزبِ دعوة الاسلامی میں شمولیت اختیار کی اور ساتھ ہی آیت اللہ سید محسن حکیم کے دفتر میں فقہی تعلیم حاصل کی۔ صدام حسین کے برسرِ اقتدار آنے اور شیعہ مذہبی قوتوں پر دباؤ بڑھنے کے ساتھ ہی انہوں نے 1980 میں عراق چھوڑ دیا اور ایران میں داخل ہوئے۔ ایران میں انہوں نے رضاکارانہ طور پر دفاعِ مقدس میں حصہ لیا اور سپاہِ بدر کی کمان میں خیبر، قدس 4 اور کربلا 2 جیسی کارروائیوں میں شرکت کی۔
میدانی تجربے اور تنظیمی صلاحیت نے المہندس کو بدر فورسز کی ایک بااثر شخصیت بنا دیا اور 2001 میں وہ ان فورسز کے کمانڈر بن گئے۔ داعش کے ظہور اور عوامی رضاکار فورس یعنی حشد الشعبی کی تشکیل کے لیے آیت اللہ سیستانی کے فتوے کے بعد، انہوں نے حشد الشعبی کی تنظیم سازی میں مرکزی کردار ادا کیا اور ڈپٹی کمانڈر کے طور پر اکثر محاذوں پر موجود رہے۔ اس فعال کردار نے ان کا نام امریکہ کے اہداف اور پابندیوں کی فہرست میں شامل کر دیا۔

کتاب جمال
شہلا پناہی کی لکھی ہوئی کتاب جمال ان معدود تصنیفات میں سے ہے جس نے ابو مہدی المہندس کی زندگی کو محض ایک فوجی کمانڈر کے بجائے، عراق کی عصری تبدیلیوں کے تناظر میں ایک سیاسی و سماجی کارکن کے طور پر بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ کتاب جمال جعفر محمد علی آل ابراہیم کی زندگی کے سفر کو بصرہ میں پیدائش سے لے کر حشد الشعبی کے ڈپٹی کمانڈر کے عہدے تک، دستاویزی اور خطی صورت میں بیان کرتی ہے۔
حاج قاسم کا وفادار محافظ
شہید وحید زمانی نیا 20 جولائی 1992 کو تہران کے علاقے اتابک میں پیدا ہوئے۔ اپنی ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ سپاہِ پاسداران کی قدس فورس میں شامل ہوئے؛ یہ شمولیت شام اور عراق میں سکیورٹی بحرانوں کی شدت کے ساتھ ہم آہنگ تھی۔ زمانی نیا شام پر داعش کے قبضے سالوں میں کئی بار شام بھیجے گئے اور مختلف محاذوں پر فعال فورسز میں شامل رہے۔

جھڑپیں کم ہونے اور نسبتا امنیت برقرار ہونے کے بعد وہ حاج قاسم سلیمانی کی حفاظتی ٹیم میں شامل ہو گئے اور سردار کی زندگی کے آخری سالوں میں اکثر سفروں اور مشنوں میں ان کے ساتھ رہے۔ 3 جنوری 2020 کی صبح وحید زمانی نیا، حاج قاسم سلیمانی اور دیگر ساتھیوں کے ہمراہ بغداد ایئرپورٹ پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے میں شہید ہو گئے۔ شہادت کے وقت ان کی عمر 27 سال تھی اور ان کے نکاح کو ابھی صرف دو ماہ گزرے تھے۔
کتاب قاسمِ حاج قاسم
زینب مولائی کی لکھی ہوئی کتاب قاسمِ حاج قاسم ایک ایسی تخلیق ہے جس کا ڈھانچہ افسانوی سوانح عمری پر مبنی ہے، جس کا ایک حصہ شہید وحید زمانی نیا کی زندگی کے لیے وقف ہے۔ مصنفہ نے اس کتاب میں بیانیے کی زبان استعمال کرتے ہوئے قدس فورس کے کمانڈر کے پہلو میں ایک نوجوان محافظ کے تجربات کی تصویر کھینچنے کی کوشش کی ہے۔ کتاب کی توجہ حاج قاسم کی زندگی کے آخری سالوں پر ہے اور وحید زمانی نیا کو اس حصے کے مرکزی کرداروں میں سے ایک کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے۔

اس تخلیق میں قاری اس طریقہ انتخاب سے واقف ہوتا ہے جس کے ذریعے وحید زمانی نیا حاج قاسم کے محافظ کے طور پر انتخاب ہوئے؛ یہ انتخاب شام میں ان کی موجودگی کے ریکارڈ اور مدافعینِ حرم کے تجربے کی بنیاد پر کیا گیا تھا۔ کتاب کمانڈر اور محافظ کے درمیان پیشہ ورانہ اور انسانی تعلق کو یادوں اور مختصر مناظر کے ذریعے بیان کرتی ہے اور سکیورٹی مشنوں کے سائے میں زندگی کی ایک تصویر پیش کرتی ہے۔
کتاب من محافظِ حاج قاسمم (میں حاج قاسم کا محافظ ہوں)
ہاجر پور واجد کی تحریر کردہ کتاب ”میں حاج قاسم کا محافظ ہوں“ کو خاص اہمیت حاصل ہے؛ کیونکہ اس کا بیانیہ خود شہید وحید زمانی نیا کی زبان سے بیان کیا گیا ہے۔ یہ کتاب پیدائش اور خاندان سے شروع ہوتی ہے اور بتدریج بار بار شام آنے جانے، مشن کی سختیوں اور حفاظت کے تصور کے بارے میں ان کے ذاتی نقطہ نظر تک پہنچتی ہے۔ اس روایت میں حاج قاسم کی حفاظت محض ایک تنظیمی ذمہ داری نہیں، بلکہ ایک اخلاقی اور اعتقادی ذمہ داری کے طور پر متعارف کرائی گئی ہے۔

”میں حاج قاسم کا محافظ ہوں“ روزمرہ کی تفصیلات، اضطراب، خطرے کے لمحات اور ایک محافظ کے طرزِ زندگی پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے سکیورٹی مشنوں کے پسِ پردہ کی کم دیکھی گئی تصویر پیش کرتی ہے اور اس لحاظ سے سینئر کمانڈرز کے ساتھ محافظوں کے کردار کو سمجھنے کے لیے اہم ذرائع میں سے ایک شمار ہوتی ہے۔

امنیت کے پاسدار اور مدافع
شہید ہادی طارمی نے سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی میں تقریباً 16 سال خدمات انجام دیں اور برسوں تک حاج قاسم سلیمانی کی حفاظتی ٹیم کے رکن رہے۔ وہ 40 سال کی عمر کے قریب پہنچ کر بغداد ایئرپورٹ کے دہشت گردانہ حملے میں شہید ہو گئے۔
کتاب فصلِ رسیدن
الہہ آخرتی کی لکھی ہوئی کتاب ”فصلِ رسیدن“ شہید ہادی طارمی کی افسانوی سوانح عمری ہے جو اپنی روایت کا آغاز خاندان سے کرتی ہے۔ یہ کتاب روایتی بیانیوں کے برعکس، اپنی بنیادی توجہ ماں پر رکھتی ہے اور ہادی طارمی کی زندگی کو ایک شہید پرور خاندان کے تجربات کے تناظر میں بیان کرتی ہے۔
کتاب کے ابتدائی حصے 1980 کی دہائی اور ہادی طارمی کے بھائی کی شہادت پر مبنی ہیں اور ہادی کی شخصیت کی تشکیل پر اس واقعے کے اثرات کا جائزہ لیتے ہیں۔ مصنفہ مادرانہ روایات کے ساتھ ایک جذباتی مگر کنٹرول شدہ فضا بناتی ہے جو آگے چل کر سپاہ میں ہادی طارمی کی پیشہ ورانہ زندگی اور حاج قاسم سلیمانی کی حفاظتی ٹیم سے جڑ جاتی ہے۔ ”فصلِ رسیدن“ محض ایک فوجی روایت ہونے کے بجائے خاندان، صبر اور ایک راستے کے تسلسل کے بارے میں ہے۔
کتاب بہ رنگِ حبیب
صادق عباسی ولدی کی تحریر کردہ کتاب ”بہ رنگِ حبیب“ زیادہ مخصوص انداز میں ہادی طارمی کی حاج قاسم سلیمانی کی حفاظت کے سالوں پر توجہ مرکوز کرتی ہے۔ یہ کتاب ”آسمانی محافظوں“ نامی کتابی مجموعے میں سے ایک ہے اور محافظوں کے مخفی کردار کو حیاتی حلقے کے طور پر نمایاں کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
”بہ رنگِ حبیب“ یادوں، مختصر روایات اور حساس مواقع کی وضاحت کا استعمال کرتے ہوئے دکھاتی ہے کہ کس طرح حاج قاسم کے ساتھ ہادی طارمی کی کئی سالہ ہمراہی ایک گہرے اور باہمی اعتماد پر مبنی تعلق میں بدل گئی؛ وہ تعلق جو آخر کار ایک ہی واقعے میں دونوں کی شہادت پر منتج ہوا۔
فرنٹ لائن کے نڈر ساتھی
شہید محمد شیبانی ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتے تھے جنہوں نے ان سے پہلے جدوجہد اور جہاد کے تصور کا تجربہ کیا تھا۔ ان کے والد سپاہِ بدر کے رکن تھے جو عراقی بعثی حکومت کے خلاف لڑتے ہوئے شہید ہوئے تھے۔ انہوں نے خود بھی اپنے خاندان اور اکلوتے بیٹے سے لگاؤ کے باوجود حاج قاسم سلیمانی اور ابو مہدی المہندس کی ہمراہی کے راستے کا انتخاب کیا اور بغداد ایئرپورٹ کے اسی دہشت گردانہ حملے میں شہید ہو گئے۔
کتاب ”خواب ہائے ناتمام“ (ادھورے خواب)
الہہ آخرتی کی ہی لکھی گئی ایک اور کتاب خواب ہائے ناتمام؛ شہید محمد شیبانی کی اہلیہ اطیاف زبیدی کی افسانوی سوانح عمری پر مشتمل ہے، ایک ایسی تخلیق ہے جو بغداد ایئرپورٹ کے واقعے کو ایک مختلف زاویے سے دیکھتی ہے۔ کتاب کا مرکزی محور اطیاف زبیدی کی زندگی ہے؛ ایک نوجوان عورت جس کی زندگی جنگ، دربدر ہونے اور شہادت کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔
اس کتاب میں محمد شیبانی کی زندگی کو ان کی اہلیہ کے بیانیے کے ذریعے دوبارہ پڑھا گیا ہے۔ مصنفہ شہید کے خاندانی پس منظر، والد کی شہادت اور ان کے انتخاب پر اس کے اثرات کا جائزہ لیتی ہے اور پھر حاج قاسم سلیمانی اور ابو مہدی المہندس کے ساتھ محمد شیبانی کی ہمراہی کو یادوں اور بالواسطہ روایات کی صورت میں منعکس کرتی ہے۔ ”خواب ہائے ناتمام“ ایک انفرادی سوانح عمری سے بڑھ کر جنگ کے سالوں میں عراقی معاشرے، مہاجر کیمپوں اور ٹارگٹ کلنگ کے سماجی اثرات کی تصویر پیش کرتی ہے۔ یہ کتاب ایک خاندان کی روایت نہیں ہے؛ بلکہ عراق کی معاصر تاریخ کا ایک حصہ ہے جو ایک عورت اور ایک شہید کی زندگی کے دریچے سے دیکھا گیا ہے۔
کمانڈر کے اسرار کا خزانہ
شہید حسین پور جعفری، 1963 میں کرمان میں پیدا ہوئے، وہ حاج قاسم سلیمانی کے قریب ترین فرد تھے اور انہیں ”رازوں کا خزانہ“ لقب دیا گیا تھا۔ اندرونی اور بیرونی مشنوں میں، محروموں کی امداد سے لے کر لبنان کی 33 روزہ جنگ اور داعش کے خلاف مقابلے تک، انہوں نے کلیدی کردار ادا کیا اور کمانڈر کا مکمل اعتماد ان کے ساتھ تھا۔
کتاب ”دلبافتہ“
شہید حسین پور جعفری کی اہلیہ زہرا قاسمی کی یادداشتوں کا مجموعہ جسے مریم علی بخشی کتاب کی شکل دی ہے، یہ کتاب حاج قاسم سلیمانی کے قریب ترین یار کے بارے میں اہم ترین تحریری ذرائع میں سے ایک ہے۔ یہ کتاب مشترکہ زندگی، مشن کے طویل سالوں اور حاج قاسم کے ساتھ پور جعفری کی مسلسل ہمراہی کو ایک خاندانی اور ساتھ ہی دستاویزی زاویے سے بیان کرتی ہے۔
کتاب دلبافتہ میں قاری مشن کے پسِ پردہ مناظر، بار بار کی دوریوں، بیگمات کے اضطراب اور ایک فیلڈ کمانڈر کے پہلو میں زندگی کی فضا سے واقف ہوتا ہے۔ کتاب فوجی تجزیوں میں براہِ راست داخل ہوئے بغیر پور جعفری کے کردار کو حاج قاسم کے خصوصی معاون اور رازوں کے امین کے طور پر نمایاں کرتی ہے۔ یہ تخلیق دکھاتی ہے کہ حاج قاسم کے ساتھ ہمراہی محض میدانِ جنگ تک محدود نہیں تھی، بلکہ اس کا مطلب مستقل مشنوں اور بڑے فیصلوں کے سائے میں زندگی گزارنا تھا۔ اس لحاظ سے دلبافتہ قدس فورس کے اہلکاروں کے خاندانوں کی زندگی کی ایک سماجی دستاویز شمار ہوتی ہے۔
حفاظتی ٹیم کا سربراہ
شہید شہروز مظفری نیا، 1978 میں قم کے علاقے کہک میں پیدا ہوئے، انہوں نے برسوں حاج قاسم کی حفاظتی ٹیم میں خدمات انجام دیں اور آخر کار حفاظتی ٹیم کے سربراہ کے طور پر کام کر رہے تھے۔ قدس فورس کے کمانڈر کی حفاظت کے لیے ان کی کوشش اور خطرناک حالات میں جانثاری کی ایک مثال تھی اور حاج قاسم کے ساتھ ان کی ہمراہی زندگی کے آخری لمحے تک جاری رہی۔
کتاب ”ہم مسیر تا آسمان“ (آسمان تک ہم سفر)
صادق عباسی ولدی کی لکھی ہوئی کتاب ”ہم مسیر تا آسمان“ شہید شہروز مظفری نیا کی زندگی پر مبنی ہے۔ وہ شخص جو برسوں حاج قاسم سلیمانی کی حفاظتی ٹیم میں شامل رہا اور آخر میں حفاظتی ٹیم کے سربراہ کے طور پر کام کر رہا تھا۔ یہ کتاب مظفری نیا کے بچپن اور لڑکپن سے شروع ہوتی ہے اور بتدریج قدس فورس کے کمانڈر کی حفاظت کی طرف آگے بڑھتی ہے۔
کتاب کی بنیادی توجہ مشترکہ راستے کے تصور پر ہے؛ وہ راستہ جو مظفری نیا کو مذہبی اور قرآنی سرگرمیوں سے نکال کر سکیورٹی کے پرخطر میدانوں تک لے گیا۔ مصنف مشن کی تفصیلات اور حساس مواقع کو بیان کرتے ہوئے دکھاتا ہے کہ کس طرح حاج قاسم کی حفاظت اس شہید کی شناخت کا ایک لازمی حصہ بن چکی تھی۔ ”ہم مسیر تا آسمان“ بغداد ایئرپورٹ کے واقعے پر اپنے اختتام کے ساتھ روایت کے دائرے کو بند کرتی ہے اور محافظ اور کمانڈر کی ہمراہی کو ایک تاریخی نکتے پر درج کرتی ہے۔
وہ نام جو اب تک گمنام ہیں
بغداد ایئرپورٹ کے حادثے کے شہدا میں حیدر علی، محمد رضا الجابری اور حسن عبد الہادی جیسے نام بھی نظر آتے ہیں؛ وہ افراد جن کی زندگی اور ہمراہی کے بارے میں اب تک کوئی مستقل تصنیف شائع نہیں ہوئی ہے۔ ان چہروں کی تحریری روایت کی جگہ اب بھی مقاومت کے معاصر ادب میں محسوس کی جاتی ہے۔
آپ کا تبصرہ